ٹیکس گزار اپنے اپنے حلقے کے ایم این اے پر دباؤ ڈالیں کہ وہ وہ معیشت کے وسیع تر مفاد میں اُس آرڈینینس کی منظوری نہ دے جس کے تحت ایڈوانس انکم ٹیکس کی وصولی اور جائداد کی ویلیو کی تشخیص کرنے کے اختیارات ایف بی آر کو دئیے گئے ہیں۔ یاد رہے کہ ان اختیارات کے تحت ایف بی آر نے مختلف بڑے شہروں کے مختلف علاقوں کے لیے پراپرٹی کے ریٹس متعین کر دئیے ہیں اور خریدار اور فروخت کنندہ سے ان ریٹس کے مطابق ایڈوانس انکم ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے جو کہ پہلے سے مروجہ نظام سے کئی گنا زیادہ ہے۔ڈی ایچ اے لاہور کے اعدادوشمار کے مطابق جب پرانے نظام کے تحت ڈسٹرکٹ کلیکٹر کے متعین کردہ ریٹس کے مطابق صوبائی اور وفاقی ٹیکس وصول کیے جارہے تھے تو روزانہ ٹرانسفر ز کی تعداد قریباً 300تھی۔ جب کہ نئے نظام کے مطابق یہ تعداد تقریباً 10گنا کم ہو گئی ہے۔ کیوں کہ ٹرانسفرز بہت کم ہو رہی ہیں لہذا زیادہ شرح کے باوجود ایڈوانس انکم ٹیکس کی کلیکشن بھی پچھلے سال سے کم ہو گئی ہے۔ یعنی پچھلے سال اگر اس شعبے سے 8ارب انکم ٹیکس وصول ہو ا تھا تو اس سال اس کی وصولی 8ارب سے بھی کم رہے گی اور ایف بی آر کی 70سے 80 ارب روپے ایڈوانس انکم ٹیکس وصولی کے تخمینہ جات بالکل غلط ثابت ہوں گے۔
لاہور ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس شمس محمود مرزا کے سامنے نیاز علی شیخ نے رِٹ پٹیشن نمبر 26561/2016کے ذریعے آرڈیننس کے ذریعے کی گئی ترامیم کو چیلنج کیا ہے بلکہ یہ بھی آئینی نقطہ اٹھا یا ہے کہ آئین میں کی گئی اٹھارویں ترمیم کے باوجود وفاقی حکومت کو غیر منقولہ جائداد پر کسی بھی قسم کے ٹیکس لگانے کا اختیار نہیں ہے اور یہ اختیار صرف صوبوں کو دیا گیا ہے۔ پٹیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ ایک ہی پراپرٹی کی صوبائی حکومت کے ریٹس اور وفاقی حکومت کے ریٹس مختلف ہیں اور یہ تضاد کسی طرح سے بھی قانونی تقاضے پورے نہیں کرتا۔ پٹیشن کی اگلی سماعت 23ستمبر کو ہو گی جس میں وفاقی حکومت اپنا موقف دے گی کہ صدارتی آرڈیننس کی پیشگی منظوری وفاقی کابینہ نے دی تھی۔ کیوں کہ یہ منظوری نہیں لی گئی تھی لہٰذا وفاقی حکومت نے جلدی سے آرڈیننس کو منظوری کے لئے اسمبلی میں پیش کر دیا۔
اگر قومی اسمبلی نے نئے قوانین کی بغیر سوچے سمجھے منظوری دے دی تو یہ نہ صرف ملکی معیشت کے لئے ایک بڑا دھچکہ ہو گا بلکہ 70/80ارب روپے ٹیکس کی وصولی ایک خواب رہے گی۔ پراپرٹی انڈسٹری اور بہت ساری انڈسٹریز کو سپورٹ کرتی ہے اور پراپرٹی بزنس سے نکلنے والا سرمایہ کسی اور ملکی انڈسٹری میں استعمال ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ بلکہ یہ سرمایہ بیرون ملک منتقل ہونا شروع ہو گیا ہے یہی وجہ ہے کہ امارات میں ایک دفعہ پھر پراپرٹی انوسٹمنٹ بزنس تیزی سے بڑھ رہا ہے ۔ لہٰذا قومی اسمبلی آرڈیننس پر بحث کے دوران ایف بی آر /وزارت خزانہ سے جولائی 2016ء سے لے کر اب تک کی ایڈوانس انکم ٹیکس کی وصولی کے اعدادو شمار لے تاکہ نئے قوانین کے ریونیو کی وصولی میں اضافے میں تاثر کی پڑتال ہو سکے۔ AHMAD HASSAN® replied on Friday, September 16, 2016 01:08 PM
اسحاق ڈار اور نواز شریف کے سامنے ایک ایم این اے کی کیا اوقات۔ ان کو تو مصافحہ کا موقع مل جائے تو دس دن ہاتھ نہیں دھوتے ۔ پچھلے سال بینک ٹرانزیکش پر وڈ ہولڈنگ ٹیکس لگا۔ تاجر برادری نے کتنا احتجاج کیا۔ کچھ ہاتھ آیا ۔ اب بھی کچھ نہیں ہونا ۔ کیونکہ بادشاہ سلامت احکامات کو واپس لینا توہین سمجھتے ہیں۔ اور جو قانون اسمبلی سے پاس ہو جائے اس کو عدالت بھی واپس نہیں کر سکتی۔ اس کو سیاسی طریقے سے حل کیا جا سکتا تھا۔ لیکن جو حضرات مذاکرات کرنے گئے وہ حکومت کی باتیں ماں کر آ گئے اور ہم مٹھائی کھانے میں لگے رہے۔ |
User_16051® replied on Friday, September 16, 2016 01:21 PM
hahaha well said ahmad hassan bhai |
Khurram® replied on Friday, September 16, 2016 01:44 PM
Ahmad Hassan, you nailed it. |
Babar Nazar Awan® replied on Saturday, September 17, 2016 06:00 AM
Ahmed Hassan bro, the comment of the year. And ironically true as well |
Iftikhar Ahmad replied on Sunday, September 18, 2016 07:11 AM
well said ahmad hassan bhai- yeh koun log hn jo abi bi kehty hn " Aik wari faer... sheeer" |
Ahmad786® replied on Monday, September 19, 2016 04:08 PM
THESE MNA are slaves of their leaders who have them ticket. |
Mahmood Akhtar replied on Tuesday, September 20, 2016 08:17 AM
Blame should also shift on property dealers who accepted the govt. version. Ishaq Dar many time quote this that the tax is imposed with the consent of community representing it. |